بال دار

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - جس کے جسم پر بہت سے بال ہوں، روئیں والا (بیشتر جانور)۔ "مندرجہ ذیل بیجوں کا مطالعہ کرو - (د) بالدار بیج۔"      ( ١٩٣٨ء، عملی نباتیات، ٧٥ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اسم 'بال' کے ساتھ فارسی مصدر داشتن سے مشتق صیغۂ امر 'دار' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے 'بال دار' مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٩٣٨ء میں "عملی نباتیات" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جس کے جسم پر بہت سے بال ہوں، روئیں والا (بیشتر جانور)۔ "مندرجہ ذیل بیجوں کا مطالعہ کرو - (د) بالدار بیج۔"      ( ١٩٣٨ء، عملی نباتیات، ٧٥ )